سندھ حکومت کا آبادی کنٹرول کیلئے مردوں کو نس بندی کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

Sindh government decides to provide sterilization facilities to men for population control

سندھ حکومت نے آبادی میں تیزی سے اضافے کو روکنے کے لیے مردوں میں نس بندی اور خواتین کے لیے آسان مانع حمل طریقوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صوبے میں ہر سال آبادی ایک پورے ضلع کے برابر بڑھ رہی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت مردوں میں مستقل مانع حمل آپریشن (نس بندی) اور خواتین کے لیے خود استعمال ہونے والا انجیکشن "سایانا پریس” عام کر رہی ہے، جو بچوں کی پیدائش میں کم از کم تین ماہ کا وقفہ دیتا ہے۔

محکمہ بہبود آبادی سندھ، جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ساتھ مل کر صوبے کی 1,600 یونین کونسلز میں گھر گھر سروے کی تیاری کر رہا ہے۔ سیکریٹری بہبود آبادی، حفیظ اللہ عباسی کے مطابق ساحلی علاقوں اور جزیروں میں نس بندی، انجیکشن، گولیاں اور پیدائش میں وقفہ دینے والے آلات جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ فیکٹریوں میں تقریباً 50 لاکھ مزدوروں کے لیے آگاہی سیشن ہوں گے اور اسکول و یونیورسٹی کے طلبہ کو آبادی بڑھنے کے منفی اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔ مرد چونکہ گھریلو فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں بھی ان پروگرامز کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

اب تک صوبے میں 3,000 مردوں کی نس بندی کی جا چکی ہے، جن میں سے کئی نے یہ قدم تھیلیسیمیا یا ایچ آئی وی/ایڈز جیسی بیماریوں کے باعث اٹھایا۔ ڈائریکٹر ایڈمن فیصل مہر کے مطابق بڑے اسپتالوں، محکمہ صحت اور این جی اوز کو نس بندی کے آلات، آئی یو سی ڈی، انجیکشن، امپلانٹس اور گولیاں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ آبادی کے اضافے کی رفتار کم ہو سکے۔

READ  بلڈ پریشر مریضوں کیلئے آلو میں چھُپی افادیت

اس وقت سندھ کی آبادی تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ ہے اور ہر سال لگ بھگ 14 لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے۔ 2017-18 میں صوبے کی مانع حمل شرح 31 فیصد تھی، جسے 2025 تک 47 فیصد اور 2030 تک 57 فیصد کرنے کا ہدف ہے۔ بڑے اسپتالوں میں فیملی پلاننگ سینٹرز فعال ہیں، جہاں شہریوں کو مانع حمل ادویات اور آلات مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ کراچی اور دیہی علاقوں میں آگاہی پروگراموں کے ساتھ شرکا کو عملی سہولیات بھی دی جاتی ہیں۔

صوبے کے 9 بڑے اسپتالوں کے 20 گائنی وارڈز میں خواتین کو آئی یو سی ڈی (جو 10 سال تک حمل روک سکتا ہے) اور امپلانٹس (جو 3 سے 5 سال تک مؤثر رہتے ہیں) فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مردوں میں نس بندی کو فروغ دینے کے لیے ہینڈز کے ایک ہزار سے زائد میل موبلائزرز کو تربیت دی گئی ہے، جس سے کراچی میں ویزیکٹومی کیسز 23 سے بڑھ کر 2022 میں 2,500 ہو گئے۔ خواتین کے لیے سایانا پریس انجیکشن 2018 سے اب تک 13 لاکھ بار استعمال ہو چکا ہے۔

اندرون سندھ کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے پیدائش میں وقفہ نہیں رکھا جاتا، جس کے نتیجے میں 30 سال کی عمر تک خواتین کے 6 سے 8 بچے ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور زیبسٹ یونیورسٹی کے تعاون سے گھر گھر سروے کیا جائے گا، جو بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی مدد سے مکمل ہوگا اور فیملی پلاننگ 2030 کے اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں