کینسر دوبارہ کیوں ہوجاتا ہے؟ سائنسدانوں نے راز جان لیا؛ علاج بھی دریافت

Why does cancer recur?

کینسر کے علاج میں گزشتہ دہائیوں میں بے پناہ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایک خوفناک مسئلہ اب بھی برقرار ہے جسے مرض کا دوبارہ لوٹ آنا یعنی Relapse کہا جاتا ہے۔

کینسر کے بہت سے مریض سرجری، کیمو تھراپی یا ریڈی ایشن کے بعد مکمل طور پر صحتیاب ہوجاتے ہیں مگر کئی سال بعد یہ مرض پھر نہ صرف لوٹ آتا ہے بلکہ اس بار پہلے سے زیادہ خطرناک شکل میں سامنے آتا ہے۔

سائنسدان اب اس بات کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ کینسر کی واپسی کی ایک بڑی وجہ کینسر اسٹیم سیلز نامی خلیات ہیں، جو روایتی علاج جیسے کیمو تھراپی یا ریڈی ایشن سے بچ جاتے ہیں۔

یہ خلیات رفتہ رفتہ بڑھنے والے عام کینسر خلیات سے مختلف طرز عمل کرتے ہیں اور جسم میں سوتے ہوئے یا گمنام حالت میں دیر تک موجود رہ سکتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں وہ دوبارہ ٹیومر (گرتھ) بنا دیتے ہیں۔

امریکا کے ورجینیا کامنز یونیورسٹی کے پروفیسر اومیش دِیسائی اور ڈاکٹر بھاؤمیک پٹیل نے برسوں کی تحقیق کے بعد ایک نیا مولیکیول جسے “G2.2” کہا جاتا ہے دریافت کیا ہے، جو ان “گمنام” کینسر اسٹیم سیلز کو دھوکہ دے کر فعال کرتا ہے اور پھر انہیں ختم کر دیتا ہے۔

مولیکیول G2.2 ان خلیات کے اندر موجود خاص ریسیپٹر کے ساتھ تعامل کر کے انہیں نیند سے باہر نکالتا ہے اور جب یہ فعال ہو جاتے ہیں، تو G2.2 ان کے اندر ایسے سگنل بھیجتا ہے جس سے وہ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔

READ  آئی فون 18 کی قیمتوں سے متعلق بڑی خبر!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں