ویسٹ انڈیز سے پاکستان کی ناکامی پر شعیب اختر کا ردعمل سامنے آگیا

Shoaib Akhtar's reaction to Pakistan's failure against West Indies has been revealed

کراچی:سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں بدترین شکست پر قومی ٹیم اور پالیسی سازوں پر سخت تنقید کی ہے۔

تیسرے ون ڈے کے بعد سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ بطور ٹی ٹوئنٹی کوچ تو بہتر ہیں لیکن ون ڈے فارمیٹ میں ان کا طریقہ کار سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ون ڈے کرکٹ میں کامیابی کے لیے بیٹنگ، بولنگ اور اسپن سمیت ہر شعبے میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو کھلانا ضروری ہے، صرف گزارا کرنے والے کمبی نیشن سے کام نہیں چلے گا۔ اگر معیاری آل راؤنڈرز اور پرفارمرز شامل نہ کیے گئے تو 50 اوورز کھیلنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے شکست کا ذمہ دار کھلاڑیوں کے بجائے غلط پالیسیوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ سیم کنڈیشنز میں ہمیشہ یہی انجام ہوگا، اور اب ری بلڈنگ کو "کمبی نیشن بنانے” کا نیا نام دے دیا گیا ہے۔ طنزیہ انداز میں انہوں نے کہا کہ شکر کریں پیٹ کمنز اور مچل اسٹارک موجود نہیں تھے، ورنہ حال اور برا ہوتا۔

واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے 34 سال بعد پاکستان کو ون ڈے سیریز میں شکست دی ہے۔ یہ کامیابی کیریبین ٹیم کی پاکستان کے خلاف مسلسل 10 ناکامیوں کے بعد پہلی فتح ہے۔ اس سے قبل نومبر 1991 میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان میں سیریز جیتی تھی۔

سیریز کے فیصلہ کن میچ میں ویسٹ انڈیز نے 50 اوورز میں 6 وکٹوں پر 294 رنز بنائے، کپتان شائی ہوپ نے 120 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ جسٹن گریوز نے 43، ایون لیوس نے 37 اور روسٹن چیز نے 36 رنز بنائے۔

READ  انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کے نتائج کا اعلان ہوگیا

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن دھڑام سے گر گئی اور پوری ٹیم 29.2 اوورز میں صرف 92 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ کپتان سلمان علی آغا 30 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، محمد نواز 23 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے، حسن نواز نے 13 رنز بنائے جبکہ پانچ بیٹرز کھاتہ بھی نہ کھول سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں