ڈکی بھائی کے لرزہ خیز انکشافات نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا

Dicky Bhai's shocking revelations created a storm on social media.

کراچی:
یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسران کیخلاف لرزہ خیز انکشافات سے بھرپور ویڈیو نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا، اس حوالے سے شوبز شخصیات سمیت انکے مداحوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے اتوار کو اپنے یوٹیوب چینل پر تقریباً ایک گھنٹہ طویل ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی حراست کے دوران مبینہ جسمانی اور زبانی تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

ڈکی بھائی نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر شعیب ریاض نے دورانِ حراست ان کا موبائل اور بائنانس (Binance) اکاؤنٹ اپنے قبضے میں لیا۔ افسر نے ان کی تمام ٹریڈز نقصان میں بند کیں اور 3 لاکھ 26 ہزار ڈالرز (تقریباً 9 کروڑ روپے) زبردستی اپنے ذاتی پرس (Personal Wallet) میں ٹرانسفر کیے۔
ڈکی بھائی کے مطابق انہوں نے بار بار پوچھا کہ یہ پیسہ سرکاری اکاؤنٹ میں کیوں نہیں جا رہا؟ جواب ملا: "مسئلہ حل کرنا ہے یا نہیں؟” جب بات پورے محکمے میں لیک ہوگئی تو ان افسران نے ڈر کے مارے عدالت میں "ریکوری” ظاہر کر دی لیکن اصل نیت اس پیسے کو ہڑپ کرنے کی تھی۔

واضح رہے کہ سعد الرحمٰن کو اگست میں لاہور ایئرپورٹ سے NCCIA نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن جوئے اور بیٹنگ ایپس کو فروغ دے رہے تھے۔ 25 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت تو دے دی، تاہم وہ سرکاری تحویل سے رہا نہیں کیے گئے۔ اسی دوران ستمبر میں NCCIA لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

READ  سمندر میں ڈوب کر ہلاکت، زوبین گرگ کے نشے میں ہونے کا انکشاف

اتوار کو جاری کی گئی ویڈیو میں ڈکی بھائی نے اپنی گرفتاری سے لے کر NCCIA کی حراست تک پیش آنے والے واقعات کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دورانِ حراست سرفراز چوہدری نے ان کے ساتھ زبانی اور جسمانی بدسلوکی کی۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز چوہدری نے مجھے گالیاں دیں۔ پوچھنے لگے پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ میں نے بتایا کہ یوٹیوب سے آتا ہے، میرے آٹھ ملین سبسکرائبرز ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میں بچوں کے ذہن خراب کر رہا ہوں۔ انہوں نے اتنے تھپڑ مارا کہ گنتی بھول گیا۔”

ڈکی بھائی نے یہ بھی الزام لگایا کہ کچھ اہلکاروں نے انہیں 7 سے 8 کروڑ روپے میں معاملہ "سیٹ” کرنے کی پیشکش کی جو ان کے پاس نہیں تھے۔ عروب کو ایف آئی آر میں نامزد نہ کرنے کیلئے ڈکی بھائی نے این سی سی آئی افسران کو 60 لاکھ روپے ادا کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں