معروف صحافی، شاعر اور ادیب منو بھائی کو دنیا سے رخصت ہوئے 8 برس بیت گئے

8 years have passed since the passing of renowned journalist

منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا، وہ 6 فروری 1933ء کو وزیرآباد میں پیدا ہوئے، گریجوایشن گورنمنٹ کالج اٹک سے کی، مختلف اخبارات میں ادارتی عہدوں پر بھی فائز رہے، پاکستان ٹيلی وژن کیلئے بہت سے ڈرامے لکھے، ان کا سب سے مشہور ڈرامہ ’’سونا چاندی‘‘ ہے، دیگر ڈراموں میں ’’دشت‘‘ اور ’’آشیانہ‘‘ بھی بہت مقبول ہوئے، اس کے علاوہ ہزاروں کالم لکھے۔

بحیثیت صحافی انہوں نے سیاست سے لے کر ثقافت کو قریب سے دیکھا تھا، اس لئے ان کی شاعری میں حقیقت نگاری کا عنصر نمایاں ہے، منو بھائی کی مشہور تصانیف میں ’’محبت کی ایک سو نظمیں‘‘، ’’جنگل اداس ہے‘‘ اور ’’انسانی منظر نامہ‘‘ شامل ہیں۔

منو بھائی نے تھیلی سیمیا میں مبتلا بچوں کیلئے سندس فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس کے وہ تاحیات چیئرمین رہے، اس فاؤنڈیشن سے مستحقین کے زخموں پر آج بھی ایسے ہی مرہم رکھا جا رہا ہے جیسے ان کی حیات میں جاری تھا۔

صحافت اور ادب میں خدمات پر منو بھائی کو تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا، وہ طویل علالت کے بعد 19 جنوری 2018ء کو 85 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے، انہیں میانی صاحب قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔

READ  اکشے کمار اپنی زندگی کے کس واقعے پر اب تک شرمندہ ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں