ضمانت تو قاتل اور ڈکیت کو بھی مل جاتی ہے، اس کا مطلب ہرگز بریت نہیں ہوتا, عطا تارڑ

Even murderers and robbers get bail, it does not mean acquittal, Atta Tarar

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ ضمانت مل جانا کوئی بریت نہیں ہوتی، قاتل اور ڈکیت کو بھی ضمانت مل جاتی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیراعظم اپنے دفاع میں کچھ بھی پیش نہ کر سکے، کابینہ سے بند لفافے میں معاہدے کی منظوری لی گئی، اور بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ لفافے کے اندر کیا ہے یہ چھوڑیں، بس منظوری دیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کو ملنے والا پیسہ جرمانے میں کیوں جمع کرایا گیا؟ پانچ قیراط کی انگوٹھیاں کس مد میں لی گئیں؟ عطا تارڑ نے کہا کہ ضمانت پر خوشی منانا سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ کیس ابھی چل رہا ہے اور اسے منطقی انجام تک پہنچنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پوری قوم کے سامنے ہیں، ان کے دیگر ملزمان پہلے سے ضمانت پر ہیں، اور ان سب کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کا دفاع آج تک نہیں کیا جا سکا، اور ضمانت پر خوشیاں منا کر یہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں 14 سال قید کی سزا ہو چکی ہے، اور آج تک وہ یہ واضح نہیں کر سکے کہ القادر ٹرسٹ کیوں بنایا گیا۔ اگر نیت نیک تھی تو ٹرسٹ کی ضرورت کیوں پڑی؟

عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت ملک کو افراتفری میں دھکیلا، ایسی سازش کسی دشمن نے بھی نہیں کی۔ ان کے خلاف پراسیکیوشن کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، اور تحریک انصاف کے لیے آج کا دن حقیقتاً ایک سوگ کا دن ہے۔

READ  کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، خودکش حملے کیلئے تیار کم عمر طالبہ کو ریسکیو کرلیا گیا

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر ملک کو نقصان پہنچایا، اور اب وہ جھوٹے بیانیوں کے ذریعے نہ صرف قوم کو بلکہ خود کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان کے خلاف ثبوتوں کا انبار ہے، اور صرف ضمانت پر جشن منا کر قوم کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں