سردیوں کا موسم گرم مشروبات، نرم کمبل اور خوشگوار مناظر اپنے ساتھ لاتا ہے، لیکن اسی موسم میں جلد کے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شکایت ونٹر ریش (Winter Rash) کی ہوتی ہے، جو اکثر ایگزیما سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق درست پہچان نہ ہونے کی صورت میں علاج میں تاخیر ہوسکتی ہے، اس لیے دونوں کے فرق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔
ونٹر ریش کیا ہے؟
سردیوں میں ٹھنڈی اور خشک ہوا جلد سے نمی چھین لیتی ہے، جس کے نتیجے میں جلد کھنچی ہوئی اور بے آرام محسوس ہونے لگتی ہے۔ ماہر امراضِ جلد کے مطابق، ہوا میں نمی کی کمی جلد کی اوپری تہہ سے تیزی سے پانی ختم کر دیتی ہے، جس سے سرخی، خشکی اور چھلکے دار پن پیدا ہو جاتا ہے۔
ونٹر ریش عموماً ان حصوں پر ظاہر ہوتا ہے جو زیادہ کھلے رہتے ہیں، جیسے ہاتھ، چہرہ اور بازو۔ اچھی خبر یہ ہے کہ یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے اور جب ہوا میں نمی بڑھتی ہے یا جلد کو مناسب نمی ملتی ہے تو علامات خود بخود بہتر ہو جاتی ہیں۔ اس سے بچاؤ کے لیے گاڑھے موئسچرائزر، فیس واش اور زیادہ گرم پانی سے نہانے سے پرہیز ضروری ہے۔
ایگزیما کیا ہوتا ہے؟
ایگزیما ایک دائمی (Chronic) جلدی بیماری ہے، جو صرف سردیوں تک محدود نہیں رہتی۔ ماہر امراض جلد کے مطابق یہ اس وقت ہوتا ہے جب جلد کا قدرتی حفاظتی نظام درست طریقے سے کام نہ کرے۔ ایسے افراد کی جلد معمولی موسم میں بھی آسانی سے خارش اور سوزش کا شکار ہو جاتی ہے، البتہ سرد اور خشک موسم میں اس کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
ایگزیما میں شدید خارش، سرخ اور کھردرے دھبے نمایاں ہوتے ہیں، جو بار بار کھجانے سے موٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ عموماً کہنیوں اور گھٹنوں کے اندرونی حصوں، گردن، پلکوں، ہاتھوں اور بعض اوقات سینے پر ظاہر ہوتا ہے۔ جن افراد کے خاندان میں الرجی یا دمے کی ہسٹری ہو، ان میں ایگزیما کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
ونٹر ریش اور ایگزیما میں فرق کیسے پہچانیں؟
صحیح علاج کے لیے درست تشخیص بے حد اہم ہے۔ اگر موئسچرائزنگ اور جلن سے بچاؤ کے باوجود ایک ہفتے میں جلد بہتر ہوجائے تو غالباً یہ ونٹر ریش ہے۔ تاہم اگر خشکی برقرار رہے، خارش شدید ہوجائے، جلد پھٹنے لگے یا خون رسنے لگے تو یہ ایگزیما کی علامت ہوسکتی ہے۔ مسلسل خارش بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ معاملہ سادہ نہیں۔





تبصرے بند ہیں