صبح نہار منہ (ناشتے سے پہلے) چیا سیڈز کے ساتھ چقندر کا جوس پینا ایک مؤثر قدرتی ڈیٹاکس سمجھا جاتا ہے، جو توانائی میں اضافہ، نظامِ ہاضمہ کی بہتری اور وزن کم کرنے میں مددگار ہے۔
یہ غذائیت سے بھرپور، گہرے رنگ کا مشروب فٹنس کے شوقین افراد اور ویلنَس ایکسپرٹس میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق چقندر وافر مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور منرلز پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ اس میں موجود نائٹریٹس بلڈ پریشر کو کم کرنے اور دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ دوسری جانب چیا سیڈز فائبر، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور پروٹین سے بھرپور ہیں، جو ہاضمہ، جِلد اور وزن پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مشروب کے درج ذیل سات بڑے فوائد ہیں:
1. "توانائی میں اضافہ”: چیا سیڈز جسم میں قوتِ برداشت بڑھاتے ہیں، جبکہ چقندر میں موجود نائٹریٹس خون کی روانی بہتر کر کے جسمانی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
2. "دل کی صحت”: چقندر بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہے، اور چیا سیڈز اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے ذریعے کولیسٹرول گھٹاتے ہیں۔
3. "ہاضمہ بہتر بنانا”: چیا سیڈز کا فائبر قبض سے بچاؤ اور آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے، جبکہ چقندر ایک قدرتی پری بائیوٹک کے طور پر فائدہ مند بیکٹیریا کی غذا فراہم کرتا ہے۔
4. "وزن میں کمی”: چیا سیڈز میں موجود فائبر اور پروٹین پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھ کر بھوک کو کم کرتے ہیں، اور میٹابولزم کو تیز کرتے ہیں۔
5. **جِلد کی بہتری**: چقندر میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں، جبکہ چیا سیڈز جِلد کو نمی اور لچک فراہم کرتے ہیں، جس سے جِلد جوان نظر آتی ہے۔
6. "سوزش میں کمی”: چقندر اور چیا سیڈز دونوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں سوزش کم کرنے اور دائمی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
7. "بلڈ شوگر کنٹرول”: چیا سیڈز کاربوہائیڈریٹس کے ہاضمے کو سست کرتے ہیں جس سے شوگر لیول متوازن رہتا ہے، جبکہ چقندر کا کم گلائسیمک انڈیکس اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی موزوں بناتا ہے۔
"چیا سیڈز کے ساتھ چقندر کا جوس بنانے کا طریقہ”:چقندر کو دھو کر چھیلیں اور ٹکڑوں میں کاٹ لیں، ایک گلاس پانی کے ساتھ بلینڈ کریں۔ ایک کھانے کا چمچ چیا سیڈز کو پانی میں بھگو کر جیل بننے دیں، پھر اسے چقندر کے جوس میں شامل کر کے فوراً پی لیں۔
یہ آسان اور غذائیت سے بھرپور مشروب اگر روزانہ صبح نہار منہ پیا جائے تو نہ صرف جسم کو ڈیٹاکس کرتا ہے بلکہ مجموعی صحت پر دیرپا مثبت اثرات بھی ڈالتا ہے۔






تبصرے بند ہیں