امریکا نے فلسطینی زخمی بچوں کو ویزے جاری کرنے کا سلسلہ معطل کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کے لیے آنے والے فلسطینی مریضوں کے ویزوں کا اجرا عارضی طور پر نظرِ ثانی کے لیے روک دیا گیا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی ساتھی اور اسلاموفوبک خیالات رکھنے والی سوشل میڈیا انفلوئنسر لارا لومر کا دباؤ شامل ہے۔ لارا لومر نے اعتراض اٹھایا تھا کہ حماس کے حملوں میں زخمی فلسطینی بچوں کا علاج امریکا میں کیوں ہو رہا ہے جبکہ غزہ میں ڈاکٹر موجود ہیں؟ انہوں نے ان بچوں کو "قابضین” تک قرار دیا۔بعد ازاں، لارا لومر نے امریکی محکمہ خارجہ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔
فلسطینی بچوں کے لیے کام کرنے والے ادارے "فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ” نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ویزوں پر پابندی شدید زخمی اور مہلک امراض میں مبتلا بچوں کی زندگیاں بچانے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
اسلامک امریکن ریلشنز نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی "سب سے پہلے اسرائیل” پالیسی کی عکاسی کرتا ہے اور اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا۔






تبصرے بند ہیں