امریکی نائب صدر نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیدیا

US Vice President calls Israeli parliament's decision

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق ووٹنگ کو احمقانہ سیاسی حربہ قرار دے دیا۔

اسرائیل دورہ مکمل کرکے واپس جاتے ہوئے تل ابیب ائیرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ ایک بے معنی علامتی ووٹ تھا، جس کا کوئی عملی اثر نہیں، اگر یہ سیاسی حربہ تھا تو یہ بہت ہی بے وقوفانہ تھا اور وہ ذاتی طور پر اسے غزہ امن معاہدے کی توہین سمجھتے ہیں۔

جی ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم نہیں کیا جائے گا اور یہ مؤقف برقرار رہے گا تاہم اگر اسرائیلی پارلیمنٹ علامتی ووٹ دینا چاہتی ہے تو دے دے لیکن ہم اس سے بالکل خوش نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ روز مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے غیرقانونی بل کی پہلے مرحلے میں منظوری دی تھی تاہم بل کی اگلے مرحلے کی منظوری کو فی لحال روک دیا گیا ہے۔

READ  ایران تیل کی فروخت و فوجی سامان کیلئے چین سے بارٹر تجارت کر رہا ہے: ذرائع

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں