اسرائیلی پارلیمان میں طاقت کے توازن کا اہم عنصر عرب اتحاد کیا ہے؟

اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے خواہشمند دونوں بڑے سیاسی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔

حالیہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ ریکارڈ 77 فیصد سے زیادہ رہا، تاہم اس کے باوجود ایک ڈرامائی سیاسی تعطل کی پیش گوئی وسیع پیمانے پر کی جا رہی تھی۔ جزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو انھیں پارلیمان میں طاقت کے توازن کا اہم عنصر بنا سکتی ہیں۔

اسرائیل کے الیکشن میں عرب اتحاد کی جماعتیں بادشاہ گر کا کرادار اختیا ر کرگئی ہیں تاہم دونوں بڑے سیاسی اتحاد ان جماعتوں کے ساتھ حکومت میں شامل نہیں ہوتا یا دوسرے الفاظ میں ان کو پسند نہیں کرتا۔

عرب اسرائیلیوں کی اکثریت اُن فلسطینیوں کی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو سنہ 1948 کی جنگ کے دوران (جب اسرائیل ریاست کے طور پر وجود میں آیا) اپنے علاقوں میں رہ گئے، جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

عرب جماعتیں سنہ 2021 میں پہلی بار اسرائیلی حکومتی اتحاد کا حصہ بن چکی ہیں، جس کی وجہ سے اس بار بھی ان کے کردار پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔اسرائیل کی موجودہ حکومت اکثر انھیں ’ریاست کی یہودی شناخت کے لیے خطرہ‘ قرار دیتی ہے۔

حال ہی میں وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حریف عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ’خطرناک حکومت‘ بنانا چاہتے ہیں۔جزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو انھیں پارلیمان میں طاقت کے توازن کا اہم عنصر بنا سکتی ہیں۔

READ  غزہ: اسرائیلی فوج کی بمباری سے 2 فلسطینی شہید

اسرائیل کے منقسم سیاسی نظام سے اشارے مل رہے ہیں کہ نیتن یاہو کے اہم ترین حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے لیے اسرائیل کی عرب اقلیت کی قیادت والی جماعتوں کے بغیر پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

جزوی نتائج کے مطابق ان عرب جماعتوں نے اپنی گذشتہ ریکارڈ تعداد کے برابر یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں،انتخابی مہم کے دوران زیادہ تر یہودی اپوزیشن جماعتوں نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ کام (اتحاد) نہیں کریں گی اور اس کی وجہ مشترکہ اقدار کا فقدان بتایا گیا تھا۔ تاہم اگر دیگر جماعتیں ان کے ساتھ اتحاد بنانے پر آمادہ ہوئیں تو عرب قیادت والی جماعتیں حکومت سازی میں ’کنگ میکر‘ یا فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں