جنوبی افریقا کے شہر ڈربن میں تارکینِ وطن کے خلاف مظاہروں اور تشدد پر قابو پانے کے لیے 500 سے زائد فوجی تعینات کر دیے گئے۔
فوجیوں کی تعیناتی گزشتہ ہفتے ایک غیر ملکی شہری کے قتل کے بعد عمل میں آئی جسے تقریباً 50 مشتعل افراد کے ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔
رواں ماہ ڈربن اور جوہانسبرگ کے قریب سوویٹو میں تارکینِ وطن مخالف احتجاج کے دوران دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔
جنوبی افریقا میں تشدد کی تازہ لہر سپریم کورٹ کی جانب سے ایک ایسی قانونی شق ختم کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کو پناہ کی درخواست دینے سے روکتی تھی۔






تبصرے بند ہیں