سابق ٹریفک پولیس چیف کراچی پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کی کہانی سامنے آگئی

Traffic Police Chief Pir Muhammad Shah

کراچی: سابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے کی اصل کہانی سامنے آگئی۔

تفتیشی حکام کے مطابق ڈی آئی جی پر ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرکے تاجر کو اغوا کروانے کا الزام ہے، آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی پیر محمد شاہ سے تاجر اغوا کیس میں وضاحت طلب کی تھی، واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

آئی جی سندھ پولیس کے خط میں کہا گیا تھا کہ 19 دسمبر 2025 کو پیر محمد شاہ نے حیدرآباد میں تاجر کے خلاف مقدمہ درج کروایا، مقدمے میں بزنس مین سے 31 کروڑ روپے سے زائد رقم کی واپسی کا مطالبہ ظاہر کیا، رواں سال 14 جنوری کی شام حیدرآباد کی پولیس کراچی آئی اور حیدرآباد کی پولیس ڈیفنس فیز 6 سے مقدمے میں نامزد تاجر کو ساتھ لے گئی۔
تفتیشی حکام کے مطابق تاجروں کی مداخلت کے بعد مغوی تاجر کو حیدرآباد پولیس نے چھوڑ دیا، تاجر کی مدعیت میں پیر محمد شاہ کے خلاف 22 جنوری کو گزری تھانے میں مقدمہ درج ہوا، مقدمے میں مدعی دانش متین نے بتایا کہ وہ 14 جنوری کو ڈیفنس فیز 6 میں اپنے گھر سے دفتر جانے کے لیے نکلا کہ اسی دوران وائٹ گاڑی میں سوار 3 افراد نے مجھے روکا اور زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔

درخواست گزار تاجر نے بتایا کہ 2 افراد نے پولیس یونیفارم سے ملتا جلتا لباس پہنا ہوا تھا، ملزمان نے مجھ سے 31 کروڑ روپے سے زائد کا تقاضا کیا، ملزمان نے میرے گھر کال کرکے 30 لاکھ روپے تاوان بھی مانگا، ملزمان نے اسی روز ہائی وے کے قریب 10 لاکھ روپے لےکر مجھے چھوڑ دیا، ملزمان نے رات ساڑھے 11 کے قریب مجھے میرے دفتر کے قریب چھوڑا۔

READ  سینیئر ٹی وی اداکارہ عائشہ خان انتقال کرگئیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں